انار کی حیران کن معلومات اور فوائد

 انار کے بارے میں بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ یہ جنتی پھل ہے اور اس کے ہیروں جیسے دانوں میں ایک دانہ جنت کا ہوتا ہے۔ لہذا اسے کاٹتے چھیلتے اور کھاتے وقت بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے تاکہ ہم اس مقدس دانے کے حصول میں بامراد ہوں۔ لیکن ایک روایت یہ بھی ہے کہ وہ دانا صرف قسمت والوں ہی کے ہاتھ آتا ہےیا اللہ تعالی جسے اس قابل سمجھے انہیں عطا کر دیتا ہے۔

ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ لذت سے بھرپور انار مجسم شفا بھی ہے۔ اللہ تعالی نے اسے موسم برسات کے خاص تحفہ کی حیثیت سے پیدا فرمایا ہے۔ یعنی اس موسم کے تمام امراض کا علاج ہے۔

انار کا آبائی وطن ایران اور افغانستان ہے۔ وہاں سے یہ برصخیر پہنچا۔ جب آریہ ہندوستان آئے، یہ خود رو پودا یہاں موجود تھا۔ چین اور کشمیر میں یہ اب بھی خود رو پودوں میں شمار ہوتا ہے۔ انار کے درخت کی عمر کافی زیادہ ہوتی ہے۔ عام طور پر اپنی پیدائش کے تین چار سال بعد پھل دینے لگتا ہے۔ لیکن ماہرین کے مطابق یہ رسیلا پھل عموما دس یا بارہ سال بعد لگتا ہے۔ ایک صحت مند درخت چالیس پچاس سال تک پھل دیتا ہے۔

انار میں غذا کی صلاحیت

انار کے سو گرام خوردنی حصے میں 78 فیصد رطوبت 1.6 فیصد پروٹین، 1.0 فیصد چکنائی، 0.7 فیصد معدنی اجزاء، 5.1 فیصد ریشے، اور 14.5 فیصد نشاستے پائے جاتے ہیں۔

اس کے سو گرام معدنی اور حیاتینی اجزاءمیں کیلشیم 10 ملی گرام، فاسفورس 70 ملی گرام، فولاد 0.3 ملی گرام، وٹامن سی 16 ملی گرام، اور کچھ مقدار میں وٹامن بی کمپلیکس شامل ہے۔ 100 گرام انار انسانی جسم کو 65 حراروں کے مساوی توانائی فراہم کرتا ہے۔

انار کے فوائد

انار کے فوائد مندرجہ ذیل ہیں

اسہال

اسہال کے علاج کے لیے انار بہت خاص علاج ہے۔ اس کے مریض کو وقفے وقفے سے تقریبا پچاس ملی لیٹر انار کا رس پلایا جائے تو افاقہ ہوگا۔ اسہال میں انار کا ملک شیک بھی مفید ہے۔

چھوٹے بچوں کو اسہال میں انار کی کونپلوں کی چٹنی بنا کر بھی دن میں تین چار بار دی جاتی ہے اس سے فوری افاقہ ہوتا ہے۔

پیٹ درد

انار کے دانے نکال لیے پھر ان پر نمک اور کالی مرچ چھڑک کر تقریبا سو گرام کھائئے۔ انشاءاللہ ہر قسم کا پیٹ درد ٹھیک ہو جائے گا۔ اس ضمن میں ہمدرد والوں کی دوا انارین بھی اکسیر ہے۔

پیچش

پیچش کے مریض کو دن میں دو تین مرتبہ تھوڑا تھوڑا انار کا رس پلائیں یا انار کے دانے کھلادیں انشاء اللہ تعالی افاقہ ہوگا۔

جمالگوٹے کا تریاق

انار جمالگوٹے کا تریاق ہے۔ اگر طبیعت دستوں سے نڈھال ہو اور کسی طرح دست رکنے میں نہ آئیں تو مریض کو دس دس منٹ بعد ایک مٹھی انار کے دانے کھلائیں یا ایک گھونٹ انار کا رس پلائیں افاقہ ہوگا اگر دستوں کے ساتھ خون آتا ہو تو وہ بھی ٹھیک ہو جائے گا۔

یرقان

انار کے پانچ تولہ رس میں رات کو لوہے کا ایک بالکل صاف ٹکڑا ڈال کر رکھ دیں۔ اور صبح نکال کر رس میں مصری اور پانی ملا کر پینے سے چند روز میں یرقان دور ہو کر جگر میں خون صٓالع پیدا ہونے لگے گا۔

پیٹ کے کیڑے

اس مرض میں انار کی چھال کا کاڑھا نہایت مفید ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ دو تولہ انار کی چھال کو ٹکرا سے 16 گناہ زیادہ پانی میں ڈال کر ابالیں۔ اور آہستہ آہستہ ہلکی آنچ پر پکنے دیں۔ جب چوتھائی حصہ پانی رہ جائے تو اتار کر ٹھنڈا کرکے چھان لیں۔ اور اس میں چھ ماشے کالا نمک ڈال کر مریض کو پلائیں۔ انشاءاللہ ایک ہفتے میں شفاء نصیب ہوگی۔

بھوک بڑھانے کے لیے

ہاضمے کی صحت اور بھوک بڑھانے میں انار کا جواب نہیں۔ اس پھل کو اپنی روزمرہ کی غذا میں شامل رکھیے۔ اس سے میں صحت مند اور فعال رہے گا۔ جب معدہ ٹھیک ہوگا تو جسم بھی تندرست رہے گا۔ موسم گرما میں انار کا رس لے کر اس میں چار گناہ پانی اور چینی ملا کر پینے سے جسم کی گرمی دور ہوتی ہے۔

گردے اور مثانے کی پتھری

کھٹے یا میٹھے دونوں قسم کے انار کے دانے پتھریوں کے علاج کے لئے مفید ہیں۔ دن میں تین بار دانہ اچھی طرح پیس کر چلنے کے شعبے کے ساتھ کھلانے سے گردے اور مثانے کی پتھری تحلیل ہو جاتی ہیں۔

دانتوں اور مسوڑھوں کی تکالیف

انار کے خشک چھلکے کا سفوف کالی مرچ اور نمک کے ساتھ بطور منجن استعمال کیا جائے تو دانتوں اور مسوڑوں کی تکلیف سے نجات مل جاتی ہے۔ اس کے بقا استعمال سے مسوڑھے مضبوط ہو جاتے ہیں۔ خون رسنا بند ہوجاتا ہے۔ پائیوریا کا خطرہ لاحق نہیں ہوتا اور دانت موتی کی طرح چمکتے ہیں۔